Ada-Jafri-Poetry-Ghazals-Shayari
Ada Jafri - Poetry - Ghazals - Shayari
ادا جعفری
کوئی خبر بھی نہ بھیجی بہار نے آتے
کہ ہم بھی قسمت مژگاں سنوارنے آتے
پھر آرزو سے تقاضائے رسم و رہ ہوتا
نگہ پہ قرض تھے جتنے اتارنے آتے
یہ زندگی ہے ہر اک پیرہن میں سجتی ہے
نہیں تھی جیت نصیبوں میں ہارنے آتے
کوئی شرر کوئی خوشبو کہ دل نہ بجھ جائے
کسی بھی نام سے خود کو پکارنے آتے
ابھی یہاں تو نہیں ہو سکی حکایت جاں
نئے ورق پہ نئے نقش ابھارنے آتے
کبھی غبار کبھی نقش پائے راہرواں
وہ رہ گزر تھی کہ ہر روپ دھارنے آتے
مرا سکوں بھی مرے آنسوؤں کے بس میں تھا
یہ میہماں مری دنیا نکھارنے آتے
جو ہم نہیں تو سر رہ گزار درد اداؔ
وہ کون تھے جو دل و جاں کو وارنے آتے
ڈھلکے ڈھلکے آنسو ڈھلکے
ڈھلکے ڈھلکے آنسو ڈھلکے
چھلکے چھلکے ساغر چھلکے
دل کے تقاضے ان کے اشارے
بوجھل بوجھل ہلکے ہلکے
دیکھو دیکھو دامن الجھا
ٹھہرو ٹھہرو ساغر چھلکے
ان کا تغافل ان کی توجہ
اک دل اس پر لاکھ تہلکے
ان کی تمنا ان کی محبت
دیکھو سنبھال کے دیکھو سنبھل کے
غم نے اٹھائے سیکڑوں طوفاں
دل نے بسارا لاکھ مچل کے
پل میں ہنساؤ پل میں رلاؤ
پل میں اجالے پل میں دھندلکے
ہم نے سمجھا تم نے جانا
دل نے مچائے لاکھ تہلکے
لاکھ منایا لاکھ بھلایا
نین کٹورے بھر بھر کر چھلکے
کتنے الجھے کتنے سیدھے
رستے ان کے رنگ محل کے
Subscribe to:
Post Comments
(
Atom
)



No comments :
Post a Comment