Ada-Jafri-Poetry-Ghazals-Shayari
Ada Jafri - Poetry - Ghazals - Shayari
ادا جعفری
کوئی خبر بھی نہ بھیجی بہار نے آتے
کہ ہم بھی قسمت مژگاں سنوارنے آتے
پھر آرزو سے تقاضائے رسم و رہ ہوتا
نگہ پہ قرض تھے جتنے اتارنے آتے
یہ زندگی ہے ہر اک پیرہن میں سجتی ہے
نہیں تھی جیت نصیبوں میں ہارنے آتے
کوئی شرر کوئی خوشبو کہ دل نہ بجھ جائے
کسی بھی نام سے خود کو پکارنے آتے
ابھی یہاں تو نہیں ہو سکی حکایت جاں
نئے ورق پہ نئے نقش ابھارنے آتے
کبھی غبار کبھی نقش پائے راہرواں
وہ رہ گزر تھی کہ ہر روپ دھارنے آتے
مرا سکوں بھی مرے آنسوؤں کے بس میں تھا
یہ میہماں مری دنیا نکھارنے آتے
جو ہم نہیں تو سر رہ گزار درد اداؔ
وہ کون تھے جو دل و جاں کو وارنے آتے
Altaf-Hussain-Hali-Poetry
Altaf Hussain Hali - Poetry
اس کے جاتے ہی یہ کیا ہو گئی گھر کی صورت
اس کے جاتے ہی یہ کیا ہو گئی گھر کی صورت
نہ وہ دیوار کی صورت ہے نہ در کی صورت
کس سے پیمان وفا باندھ رہی ہے بلبل
کل نہ پہچان سکے گی گل تر کی صورت
ہے غم روز جدائی نہ نشاط شب وصل
ہو گئی اور ہی کچھ شام و سحر کی صورت
اپنی جیبوں سے رہیں سارے نمازی ہشیار
اک بزرگ آتے ہیں مسجد میں خضر کی صورت
دیکھیے شیخ مصور سے کھچے یا نہ کھچے
صورت اور آپ سے بے عیب بشر کی صورت
واعظو آتش دوزخ سے جہاں کو تم نے
یہ ڈرایا ہے کہ خود بن گئے ڈر کی صورت
کیا خبر زاہد قانع کو کہ کیا چیز ہے حرص
اس نے دیکھی ہی نہیں کیسۂ زر کی صورت
میں بچا تیر حوادث سے نشانہ بن کر
آڑے آئی مری تسلیم سپر کی صورت
شوق میں اس کے مزا درد میں اس کے لذت
ناصحو اس سے نہیں کوئی مفر کی صورت
حملہ اپنے پہ بھی اک بعد ہزیمت ہے ضرور
رہ گئی ہے یہی اک فتح و ظفر کی صورت
رہنماؤں کے ہوئے جاتے ہیں اوسان خطا
راہ میں کچھ نظر آتی ہے خطر کی صورت
یوں تو آیا ہے تباہی میں یہ بیڑا سو بار
پر ڈراتی ہے بہت آج بھنور کی صورت
ان کو حالیؔ بھی بلاتے ہیں گھر اپنے مہماں
دیکھنا آپ کی اور آپ کے گھر کی صورت
Subscribe to:
Posts
(
Atom
)




No comments :
Post a Comment